1,614

محفل ذکرِ حسین رضی اللہ عنہٗ

لاہور (نیوز رپورٹر، وقار احمد) تحریک دعوتِ فقر (رجسٹرڈ) ہر سال یومِ عاشورہ ۱۰ محرم الحرام کو سیّدالشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اور ان کے وفاداروجانثارساتھیوں کی میدانِ کربلا میں شہادتِ عظیم کی یاد میں مرکزی خانقاہ سروری قادری 4-5/Aایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہور میں محفل ذکرِحسینؓ کا انعقاد کرتی ہے۔ اس روایت کو قائم رکھتے ہوئے رواں سال بھی مرکزی خانقاہ سروری قادری لاہور میں 10ستمبر 2019 بمطابق ۱۰ محرم الحرام ۱۴۴۱ھ بروز منگل ایک پُر نورمحفل کا اہتمام کیا گیا۔ اس پُر نورمحفل کی  صدارت تحریک دعوتِ فقر کے بانی و سرپرستِ  اعلیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن  مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔
تحریک دعوتِ فقر کی انتظامیہ کمیٹی نے محفل ذکر ِحسین رضی اللہ عنہٗ کا وقت نمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد مقرر کیا تھا۔ اہل عشق حضرات ملک کے طول و عرض سے جوق در جوق مرکزی خانقاہ سروری قادری میں صبح صادق سے ہی پہنچنا شروع ہو گئے تھے اور ساتھیوں کی آمد کا سلسلہ محفل کے دوران بھی وقفہ وقفہ سے جاری رہا۔ صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب سروری قادری صاحب بھی وقت ِ مقررہ سے قبل خانقاہ میں تشریف فرما ہو چکے تھے۔ بانی و سر پرست ِ اعلیٰ تحریک دعوتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلطان العاشقین ہاؤس میں خواتین مریدین سے ملاقات کے بعد محفل کی صدارت کے لئے مرکزی خانقاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ خانقاہ میں موجود مریدین اپنے ہادی و مرشدکے چہرہ ٔ انور کے دیدار کے منتظر قطار در قطار پلکیں بچھائے کھڑے تھے۔ جونہی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس خانقاہ تشریف فرما ہوئے، عشاق کے چہرے خوشی سے کھِل اٹھے۔ ایسی صورت جو مظہر ِ ذاتِ ربّانی ہو اور جس پر لِلّٰہ کے جلوے ملیں تو دیکھنے والے کیونکر ایک جھلک پر فریفتہ نہ ہوں۔ سبحان اللہ! آپ مدظلہ الاقدس کے چہرۂ مبارک سے نور کے فوارے پھوٹ رہے تھے اور طالبانِ مولیٰ بلا اختیار سلطان العاشقین زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ خانقاہ میں داخل ہوتے ہی صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب سروری قادری نے آپ مدظلہ الاقدس کا استقبال کیا۔ صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب کے بعد منتظم ِ اعلیٰ تحریک دعوتِ فقر ملک محمد نعیم عباس کھوکھرسروری قادری صاحب نے آگے بڑھ کر سلطان العاشقین کے دست ِ اقدس پر بوسہ لیکر استقبال کیا۔ ان کے ساتھ ہی سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے خلیفہ ڈاکٹر حسنین محبوب سروری قادری بھی مرشد کریم کے استقبال کے لئے ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور انہوں نے بھی انتہائی ادب و تکریم سے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا استقبال کیا۔ 

نمازِ ظہر کی ادائیگی کے لئے صف بندی کی گئی اورمولانا محمد اسلم سروری قادری نے امامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے مسند ِ صدارت سنبھالی۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سب سے پہلے دور دراز علاقہ جات سے آئے ہوئے مریدین اور عقیدتمندوں سے فرداً فرداً ملاقات فرمائی اور ان سے انکی علاقائی سرگرمیوں کے متعلق مختصر گفتگو فرمائی۔

جناب ملک محمد نعیم عباس کھوکھر سروری قادری صاحب نے نقیب ِ محفل کے فرائض سنبھالے اور مسند ِ صدارت پر فائز اپنے ہادی و مرشد سے محفل کے آغاز کی اجازت طلب کرتے ہوئے تلاوتِ قرآن مجید سے محفل کے باقاعدہ آغاز کے لئے مولانا محمد اسلم سروری قادری کو سٹیج پر بلایا۔ مولانا محمد اسلم سروری قادری نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 153سے 157تلاوت فرمائی اور حاضرین ِ محفل کو ان آیات کا اردو ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا:
ـ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔ اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اورکچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیبؐ!) آپؐ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم بھی اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے ربّ کی طرف سے پے در پے نوازشیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
مولانا محمد اسلم سروری قادری نے بے حدذوق و شوق اور خوبصورتی سے یہ آیات تلاوت فرمائیں اور حاضرین ِ محفل کے قلوب کو نورِ ایمانی سے سرشار فرمایا۔ قارئین کرام! جب مظہرذاتِ ربّانی ہستی کے رُوبرو اللہ ربّ العزت کا پاک کلام سنا جائے تو ایک ایک حرف روح کی گہرائیوں میں سرایت کر جاتا ہے اور روح عجب اطمینان و سکون محسوس کرتی ہے جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بے شک یہ انسانِ کامل، فقیر ِ کامل اور امام الوقت کی صحبت ہی کی بدولت ہے ۔
تلاوت قرآن مجید کے بعد نعت ِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہدیہ پیش کرنے کے لئے رمضان باھو کو سٹیج پر دعوت دی گئی۔
 رمضان باھو نے اپنی خوبصورت آواز اور منفرد انداز میں
یا نبیؐ نظر ِ کرم فرمانا اے حسنینؓ کے ناناؐ
پڑھ کر ایک سماں باندھ دیا۔ حاضرین ِ محفل جھوم جھوم کر نعت خواں کو داد دیتے رہے اور نعت خواں کی خوب حوصلہ افزائی کی۔
نعت ِرسول مقبول ؐ کے بعد ملک محمد نعیم عباس کھوکھر سروری قادری صاحب نے امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی شان میں منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے محسن رضا سلطانی کو سٹیج پر بلایا۔ محسن رضا سلطانی نے مندرجہ ذیل منقبت کو اس خوبصورت انداز میں حاضرین محفل کے سامنے پیش کیا کہ میدان ِ کربلا کا دل دہلا دینے والا واقعہ نظروں کے سامنے گردش کرنے لگا:
آیا نہ ہوگا اس طرح حسن و شباب ریت پر
گلشن ِ فاطمہؓ کے تھے سارے گلاب ریت پر
منقبت کا ایک ایک جملہ کانوں میں رَس گھول رہا تھا، دِل پگھل رہے تھے اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ حاضرین نے محسن رضا سلطانی کی اس کاوش کو خوب سراہا اور دل کھول کر داد دی۔ منقبت در شان امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے بعد ایک مرتبہ پھر رمضان باھو کو سٹیج پر مدعو کیا گیا اور ابیاتِ باھُوؒ حاضرین کی سماعتوں کی نذر کر نے کی درخواست کی گئی ۔ رمضان باھو نے اپنی خوبصورت آواز میں شہادت امام حسینؓ سے متعلق حضرت سلطان باھُو کا پنجابی بیت اپنے منفرد انداز میں پڑھا:
عاشق سوئی حقیقی جیہڑا، قتل معشوق دے مَنّے ھُو
عشق نہ چھوڑے مُکھ نہ موڑے، توڑے سَے تلواراں کھَنّے ھُو
جِت وَل ویکھے راز ماہی دے، لگّے اُوسے بَنّھے ھُو
سچا عشق حسینؑ ابن ِ علی ؓ دا باھُوؒ، سر دِیوے راز نہ بھَنّے ھُو
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اس بیت کی بہت ہی سادہ فہم انداز میں شرح بیان فرمائی اور فلسفہ شہادت امام حسین رضی اللہ عنہٗ چند جملوں میں سمجھا دیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ بعض لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ امامِ مظلوم تھے جو کہ سراسر غلط ہے ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ صاحب ِ اختیار فقیر کامل اور صاحب ِ فقر تھے لیکن محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنا گھر بار، رشتہ دارحتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کر دی لیکن باطل قوتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹتے ہوئے دیکھے لیکن اللہ تعالیٰ کے حضورشکوہ و شکایت کا ایک لفظ بھی نہیں کہا اور استقامت سے باطل قوتوں کے سامنے ڈٹے رہے۔ صاحب ِ اختیار ہونے کے ناتے نہ تو اپنے پیاروں کے لئے کوئی آسانی کا سامان مہیا کیا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ سے اس مصیبت کے دور ہو جانے کی کوئی دعا مانگی محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کئے رکھا۔
جتنے سوال عشق نے آلِ رسولؐ سے کیے
اک کے بعد اک دیے سارے جواب ریت پر
راہِ فقر میں تسلیم و رضا کو بیان کرنے کے لئے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے مولانا محمد اسلم سروری قادری سے فرمایا کہ وہ حاضرین محفل کو حضرت خواجہ غوث محمد گوالیاری ؒ کے واقعہ کے ذریعے سمجھائیں لہٰذا مولانا اسلم سروری قادری نے مختصراً مگر جامع انداز میں حضرت خواجہ غوث محمد گوالیاری ؒ کا واقعہ بیان فرمایا کہ جب انہوں نے اپنی نواسی کو مصیبت میں درد سے چلاتے ہوئے دیکھا تو اتنے اعلیٰ پائے کے بزرگ ہونے کے باوجود اُن کے لئے مقامِ تسلیم و رضا پر قائم رہنا ممکن نہ رہا۔ اُدھر میدان ِ کربلا میں تو ایک کے بعد ایک لخت ِ جگر آنکھوں کے سامنے یزیدملعون کی اذیت کی بھینٹ چڑھ رہا تھا لیکن امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے ماتھے پر ایک شکن تک نہ آئی۔
جانِ بتولؓ کے سِوا کوئی نہیں کھِلا سکا
قطرۂ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر
عشق میں کیا بچائیے عشق میں لُٹائیے
آلِ نبیؐ نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر
آلِ نبیؐ کا کام تھا آلِ نبیؐ ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا عدیل ایسی کتاب ریت پر
اس مختصر سے بیان کے بعد مولانا محمد اسلم سروری قادری نے ختم شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ ختم ِ پاک کے بعد شہدائے کربلا کی ارواحِ مقدسہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ محمد فاروق ضیا سروری قادری نے جامع اور رقت آمیز انداز میں دعا فرمائی۔ محفل پاک میں شرکت کرنے والے تمام حاضرین اورمحفل پاک کے انتظامات میں جانی و مالی تعاون فرمانے والے ساتھیوں کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ملک پاکستان کی سالمیت اور اندرونی و بیرونی خطرات سے حفاظت کے لئے بھی دعا کی گئی۔ دعا کے بعد آقائے دو جہان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اہل ِ بیتؓ کے حضور درود و سلام کا ہدیہ و نذرانہ پیش کیا گیااور مولانا محمد اسلم سروری قادری نے اختتامی دعا کروائی۔ درود و سلام کے بعد خوش نصیب طالبانِ مولیٰ نے دورِ حاضر کے امام، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے حقیقی و روحانی وارث، امامِ مبین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دست ِ اقدس پر بیعت ہو کر ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی لازوال نعمت کا شرف حاصل کیا۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے بیعت ہونے والے طالبانِ مولیٰ کے لئے دعائے خیر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہِ فقر میں استقامت نصیب فرمائے۔ اس کے علاوہ شمالی علاقہ جات سے تشریف لائے ہوئے ساتھیوں نے بغیر بیعت کے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات حاصل کیا۔ بیعت کے بعد مقامی مریدین اور عقیدتمندوں نے بھی فرداً فرداً سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے ملاقات فرمائی۔تمام ساتھیوں سے ملاقات کر لینے کے بعد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس محفل سے روانہ ہوئے اور سلطان العاشقین ہاؤ س میں خواتین مریدین کی جانب سے سجائی گئی محفل بسلسلہ ذکر ِ حسینؓ کی زینت بنے۔ خواتین کی محفل میں بھی بہت سی طالبانِ مولیٰ نے بیعت اور بغیر بیعت کے ذکر و تصور اسم ِ اللہ ذات کی نعمت حاصل کی اور سلطان العاشقین کی راہنمائی و زیر ِ سایہ فقر کے سفر کا آغاز کیا۔

خانقاہ سروری قادری میں تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ لنگر کی جانب سے تمام حاضرین ِ محفل کے لئے وسیع و عریض اور شاندار لنگر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ شرکائے محفل نے جی بھر کر لنگر تناول کیا اور دورانِ لنگر نعت خواں حضرات کی بہترین کارکردگی اور سلطان العاشقین کے دلفریب اندازِ گفتگو کا تذکرہ کرتے رہے۔
قارئین کرام! اس روحانی محفل کو تحریک دعوتِ فقر کے فیس بک پیج پر براہِ راست بھی نشر کیا گیا جسے دنیا بھر میں ہزاروں شائقین نے ملاحظہ کیا۔ اس پُر نور روحانی محفل کے خوبصورت مناظر تحریک دعوتِ فقر کے تینوں ٹی وی چینلز پر بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ فیس بک، یو ٹیوب اور ڈیلی موشن پر بھی آپ ان روحانی مناظر سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ تحریک دعوتِ فقر کے ٹی وی چینلز کی تفصیلات ذیل میں شائع کی جارہی ہیں:
//sultan-ul-ashiqeen.tv
//sultan-bahoo.tv
//sultanulfaqr.tv
نوٹ: یہ خبریں شعبہ اطلاعات و نشریات کی جانب سے شعبہ سلطان الفقر پبلیکیشنز کے تعاون سے شائع کی گئی ہیں۔ہمیں اپنی تجاویز اور آراء سے ضرور آگاہ کیجئے گا۔
feedback@tehreekdawatefaqr.com
یا ہمیں درج ذیل پتہ پر تحریری طور پر ارسال کریں۔
’’شعبہ اطلاعات و نشریات تحریک دعوتِ فقر‘‘4-5/A ایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤ ن وحدت روڈ ڈاکخانہ منصورہ لاہور۔